روایت ہے، زمانۂ قدیم میں ایرانی بادشاہ مے نوشی سے قبل ایک جرعہ زمین پر گراتے تھے۔ یہ شاہانِ رفتہ کو دادِ شجاعت دینے کا اسلوب تھا۔ قیصر و جَم کو شریک مجلس کرنا اور دل کو جرات مندی کے خون سے بھرنا، سینے کو احساس تفاخر سے لبریز کرتا تھا۔ یہ خیال بھی ملحوظ رہتا تھا کہ ایک تاج دار کا پایہ ء تخت دوسرے صاحبِ افسر کا سرِ دار ہوتا ہے۔ آئینِ دنیا سے مفر نہیں : میں بھی کبھو کسو کا سرِ پُر غرور تھا!
ہم لوگ بھلے بادشاہ نہیں، لیکن عالم یہی ہے۔ کیسے کیسے کحلِ جواہر قدموں تلے دبے ہیں لیکن ہمیں خبر نہیں۔ گذشتگان زبان عبرت سے چِلّاتے ہیں لیکن کانوں پر غفلت کے پردے ہیں، آدمی نہیں مُردے ہیں۔ فکرِ دنیا سے فراغت نہیں، آسیائے زمانہ سے حفاظت نہیں۔ کتنے باغ ہیں کہ جنگل ہو گئے، کیسے راغ ہیں کہ پانی بن گئے۔
بسا نامدار و بسا کامگار
بسا سرو قد و بسا گلعذار
کہ کردند پیراہن عمر چاک
کشیدند سر در گریبان چاک
(سعدی)
(کتنے نامور اور اقبال مند، کتنے طویل قامت اور خوب صورت رخسار والوں نے زندگی کے لباس کو چاک کر کے، فنا کی مٹی میں سر دبا لیا۔)
یہ قصہ یوں تو ہر زمین و زمان کا ہے لیکن اہلیان لاہور کے لیے لازم و ملزوم ہو چلا ہے۔ اس عروس البلاد نے ہزاروں سال کو اپنی چشم طنّاز سے دیکھا، غزنوی دور سے کئی صدیاں پہلے، سناتنیوں اور بودھوں کا عہد۔ بعد کے ہزار سال۔ ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی، سب لاہور کے شیدائی رہے۔ سمجھنے کا نکتہ یہ ہے، لاہور، شہر سے بڑھ کر جہانِ خیال ہے۔ وہی جہان جس کے بارے علامہ اقبال نے کہا تھا:
مومن کے جہاں کی حد نہیں ہے
مومن کا مقام پر کہیں ہے
لاہور کا صدر مقام اندرون شہر اور اس کے بہتے بہاتے کنارے ہیں۔ انارکلی کی ریتی اپنی نرمی کے سبب معروف ہے۔ مغرب میں گورنمنٹ کالج کا اونچا مینار، آسمان کی خبریں لاتا ہے۔ مشرق میں نیلا گنبد فلک کا استعارہ بن جاتا ہے۔ جنوب میں مال، شمال میں شاہی کمال۔ ایک سمت بڑھا لیجیے تو انارکلی کی پانچوں انگلیاں گھی میں ہیں۔
گورنمنٹ کالج کہنے کو تیس چالیس ایکٹر کا رقبہ ہے لیکن انقلابات نے اس کی مٹی کو ایسا گوندھا ہے کہ چپے چپے کا محاورہ پور پور میں بدل گیا ہے۔ شعر کی زبان میں کہیں تو بے الغزل ہے :
جہاں سے دیکھیے اک شعرِ شور انگیز نکلے ہے
قیامت کا سا ہنگامہ بپا ہے میرے دیوان میں

ہم سب جانتے ہیں، گورنمنٹ کالج کے شمالی حصے کو (جو گول باغ کی مشرق میں واقع ہے) بنگلہ کیمپس کہتے ہیں۔ گنے چنے لوگ اس نام کی وجۂ تسمیہ سے آگاہ ہیں۔ بنگلہ کیمپس، حدِ فاصل کے طور پر نہیں، بنگلوں کی زمین پر آباد ہونے کے باعث بنگلہ کہلاتا ہے۔ کون سے بنگلے، کیسے بنگلے! ہمارے ساتھ جانیے۔
ڈیڑھ سو برس پہلے یہ جگہ برف جمانے والی بیرک کی بغل میں واقع تھی۔ مال روڈ کا شمالی علاقہ، جما جمایا تھا۔ پڑھے لکھے لوگوں کا اجماع ہوا اور آٹھ دس بنگلوں کی بنیاد رکھی گئی۔ زیادہ تر بنگلے ہندوؤں کی ملکیت تھے۔ وسیع و عریض مغلیہ دور کے ایک منزلہ گھر، جن کی روکار اور عقب، ہوا دار اور کھلے ہوتے۔ ٹم ٹم اور تام جھام ایک رخ سے آتے، دوسری سمت کو نکل جاتے۔ سائیس دیکھتے رہ جاتے۔ کہتے ہیں مرزا نواب داغ نے چند مہینے لاہور میں قیام کیا۔ اس ضمن میں تمکین کاظمی نے انارکلی کے پہلو میں کشادہ گھروں کا ذکر کیا ہے، کیا خبر یہی بنگلے ہوں!
بنگلوں کی اس سوسائٹی، کو ابتداء میں کالجییٹ ہاوسز کا نام دیا گیا۔ یہ نام گورنمنٹ کالج اور اورینٹل کالج کے اساتذہ کی رہائش کے باعث معروف ہوا۔ ان دنوں پنجاب یونیورسٹی کا وائس چانسلر بھی یہیں رہتا تھا۔ الفریڈ کوپر وولنر کے آکسفرڈ کے ایک دوست نے، جو انھیں ملنے لاہور آئے، اپنی یادداشتوں میں اس گھر کا ذکر کیا ہے۔ ”پر سکون گھر، اونچے گھنے درختوں سے گھرا، زمزمہ توپ اور میو کالج آف آرٹس کے سامنے چند سست مزاج گیدڑوں کا ہجوم، کھڑکیوں پر ململ کے سفید پردے پڑے، بید مجنوں کی مانند لرزتے۔۔۔۔۔۔“
افسوس ان قیام گاہوں کو، اشرافیائی و جغرافیائی مورخین نے گھاس نہیں ڈالی۔ حالاں کہ لاہور کی پہلی ”علمی و بشریاتی تجربہ گاہ“ (بقول لائٹنر)، یہیں بسائی گئی۔ گورنمنٹ کالج لاہور کے پہلے مایہ ناز پرنسپل، عالم اور مستشرق جی ڈبلیو لائٹنر (1899ء-1840ء) نے اپنی زبان دانی کی غرض سے یہاں چنگڑوں کا ایک محلہ بسایا اور انھیں سینے سے لگایا۔ انھی چنگڑوں کو مولانا محمد حسین آزاد نے چہادنی کے نام سے یاد کیا ہے۔


چنگڑ قوم ایک قدیم نسل ہے جن کا ابتداً تعلق جموں کے علاقے سے تھا۔ مغلیہ دور کی تواریخ میں ان کا ذکر ملتا ہے۔ چنگڑوں کی اپنی بولی ہے اور یہ خود کو چوبنا کہتے ہیں ۔ جو زبانی روایت کے مطابق جھاننا سے مشتق ہے ۔ ایک رائے کے مطابق چنگڑ زنگاری کی ایک شکل ہے۔ لائٹنر زبانوں کا دل دادہ تھا، اٹھارہ برس کی عمر تک پہنچتے پہنچتے اس نے آٹھ زبانوں میں مہارت پیدا کر لی۔ اعزاز کی تختی اپنے نام لکھوائی اور اکیس سال میں کنگز کالج لندن میں پروفیسری کی سند پائی۔
بنگلہ ہاوسز، یا کالجییٹ ہاوسز میں لاہور کی علمی دنیا کی سرگرمیاں بھی شدومد سے جاری رہتیں۔ اے سی وولنر نے اپنی بیوی کے ساتھ مل کر منروا کلب کی بنا بھی یہیں ڈالی۔ جس میں فلسفیانہ اور ادبی پہلوؤں پر بے باک بحثیں ہوتیں۔ ہر ایک کو اپنی کہنے سننے کی اجازت تھی۔ بنگلوں کے مشرق میں سینیٹ ہال سے واقع ہے۔ یہ بات کم لوگ جانتے ہیں، موجودہ دور میں جہاں پنجاب یونیورسٹی کا سینیٹ ہال ایستادہ ہے، وہاں انگریز دور کی بنائی گئی پہلی آئس کریم فیکٹری واقع تھی۔ اُن دنوں جب لاہور میں برف جمانا ایک کار دشوار تھا، آئس کریم فیکٹری کا قیام غیر معمولی بات تھی۔
آج یہ ساری داستان قصہ پارینہ بن چکی ہے۔ لیکن دو آثار ایسے ہیں جو ڈیڑھ سو برس پہلے کے بنگلوں کا منہ بولتا اور بانہیں پھیلاتا ثبوت ہیں۔ ان میں سے ایک گورنمنٹ کالج لاہور (موجودہ یونیورسٹی)کے انٹر کیفے کی مغربی جانب کھڑی دو پُر شکوہ راہ داریوں ہیں۔ سنگِ سرخ (جسے سنگ اشرف بھی کہتے ہیں) سے بنی آٹھ قدم چوڑی اور تقریباً بائیس فٹ اونچی متوازی راہداریاں تین گزر گاہوں پر مشتمل ہیں۔ راہداریاں ہر دو طرف سے دو دو ہاتھ چوڑائی پر مشتمل سرخ پتھر سے تراشی گئی ہیں۔ نیچے کی گزرگاہ تقریباً بارہ فٹ اونچی ہے، جس کے بعد، بالائی جانب اندرونی گوشوں میں کوہی و زبرجدی پتھروں کے خوب صورت استعمال سے زیبائش کی گئی ہے۔ ان راہداریوں کی مختصر کہانی پہلو کی لوح پر لکھی ہے۔ پہلے اس تحریر کو ملاحظہ کیجیے۔ تفصیل ازاں بعد :
HERITAGE
THE RED SAND STONE ENTRANCE PILLARS, ERECTED IN JULY 2006 IN THIS PLOT, WERE SALVAGED FROM A RESIDENTIAL BUILDING KNOWN AS BUNGLOW NO. 6 (BUILT IN 1906) IN THE PREMISES OF SCIENCE BLOCK OF G.C.U., ON THE PERSONAL CONCERN OF THE VICE CHANCELLOR DR. KHALID AFTAB IT IS USED HERE TO MERGE WITH THE G.C.U. LANDSCAPE AND TO PRESERVE THE HERITAGE MATERIAL AND ITS DESIGN ELEMENTS THE PILLARS ARE MADE OF AGRA RED SAND STONE WHICH HAS BEEN USED FOR CENTURIES AND IS A CONSTITUENT OF LARGE NUMBER OF MUGHAL BUILDINGS AND MONUMENTS
ترجمہ :
ورثہ
سنگ سرخ کے یہ داخلی ستون، جولائی 2006ء میں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے سائنس بلاک میں واقع رہائشی عمارت بنگلہ نمبر 6 (تعمیر: 1906) سے محفوظ طور پر نکال کر یہاں منتقل کیے گئے ہیں۔ وائس چانسلر ڈاکٹر خالد آفتاب صاحب کی ذاتی دل چسپی اور مساعی سے ان ستونوں کو یہاں نصب کیا گیا تاکہ یہ یونیورسٹی کے مجموعی منظرنامے کا جزو بن سکیں اور تاریخی ورثے کے اس گراں مایہ اور منفرد طرزِ تعمیر کو محفوظ رکھا جا سکے۔
یہ ستون آگرہ کے سرخ پتھر (ریڈ سینڈ اسٹون) سے بنے ہوئے ہیں، جو صدیوں سے استعمال ہوتا آ رہا ہے اور مغل دور کی بے شمار عمارتوں اور تاریخی یادگاروں کی تعمیر میں استعمال کیا گیا ہے۔“

ملحوظ رہے، ایسی راہداریاں ویدک کالج (موجودہ اسلامیہ کالج سول لائنز) کے جنوبی سمت بھی واقع ہیں، جن کے پاؤں میں آدھی زمین میں دھنسی ہندی تختی، زبان حال سے کہانی سناتی ہے۔
حال ہی میں دہلی سے تعلق رکھنے والی معمر خاتون، رینوکا کھنہ (چٹر جی) نے ان ستونوں سے منسلک گھر کی کہانی کو تازہ خون فراہم کیا ہے۔
رینوکا (چٹرجی) کھنہ 1927ء میں لاہور میں پیدا ہوئیں۔ ابتدائی تعلیم لاہور اور گورنمنٹ کالج سے حاصل کرنے کے بعد انھوں نے خود کو لندن یونیورسٹی سے نفسیات کی تعلیم سے آراستہ کیا۔ آزادی کے بعد وہ ماڈرن اسکول، نئی دہلی میں ماہرِ نفسیات کے طور پر کام کرتی رہیں۔ وہ انگریزی ادبیات کی مدرس بھی رہیں۔
مطالعے کی شوقین، پرندوں کی چترکاری کا عمدہ ذوق رکھنے والی اور چکن کاری کے فن کی ماہر رینوکا کھنہ نے بھرپور زندگی گزاری اور اپنی زندگی میں لاہور اور گورنمنٹ کالج کو یاد رکھا۔
رینوکا نے اپنی یادوں (Malati Shah’s memories of Mrs. Khanna’s nani) میں لکھا ہے، ان کا بچپن گورنمنٹ کالج کے ٹاور کے سائے میں گزرا۔ کالج کا بیضوی میدان (The Oval) ان کا گھر تھا۔ ہولی کا تہوار یہیں منایا جاتا، دیوانی کے دیے یہیں سجائے جاتے۔ ہندو، مسلم اور سکھ محبت سے رہتے۔ فضا میں خوف تھا نہ تکدر، یہاں تک کہ 1947ء کا خون خوار سال آ پہنچا۔ حالات ایسے بگڑ گئے کہ رینوکا اور ان کی سہیلیوں کو اپنے دفاع کے لیے سائیکلوں میں چھریاں چھپانا پڑیں۔ لاہور کا پاکستان میں ملنا تھا کہ غیر مسلم آبادی کے جگر خون ہو گئے۔ لاہور عام شہر نہیں، شہر خواب تھا۔ اگست 1947ء تک رینوکا اور ان کا خاندان اسی بنگلہ نمبر 6 میں مقیم رہا۔
خوش قسمتی سے ایسے لوگ موجود ہیں جنھوں نے بنگلے (تقریباً 2000ء) کے آخری دنوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔
دوسری نشانی کے بارے میں جاننے کے لیے اس قصے سے آگاہی ضروری ہے کہ تقسیم کے فوری بعد بنگلہ نمبر 6، چٹر جی خاندان کے دہلی ہجرت کرنے کے بعد، گورنمنٹ کالج لاہور کے انگریزی کے معروف استاد اور پطرس بخاری کے ہم کار، پروفیسر سراج الدین کے حصے میں آ گیا۔ پروفیسر سراج الدین کی ہمسر رضیہ سراج الدین معروف آرٹسٹ اور میو کالج آف آرٹس سے تعلیم یافتہ تھیں۔ آخری دنوں میں وہ اپنے بیٹے کے ہمراہ لندن میں مقیم ہو گئیں۔ان کے جانے کے بعد پروفیسر موصوف اپنے نئے خاندان (پروفیسر سراج الدین نے دوسری شادی گورنمنٹ کالج لاہور کے پہلے ہندوستانی پرنسپل گرودت سوندھی کی بیٹی، جناب ارملا صاحبہ سے کی تھی) طویل عرصے تک اسی گھر میں رہا اور یادوں کی میراث بنائی۔ پروفیسر سراج الدین کے اس گھر میں رہنے کے دنوں کو ڈاکٹر آفتاب احمد نے اپنی کتاب ”بیاد صحبت نازک خیالاں“ میں شامل خاکے میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیا ہے۔

2006ء میں جب بنگلے کو منہدم کیا جانے لگا، سراج الدین مرحوم کی نور نظر پروفیسر شائستہ سونو سراج الدین نے اس بنگلے کی سرخ ٹائلوں کو یادگار کے طور پر لاہور چھاؤنی میں اپنے گھر کے مطالعہ گاہ کی زینت بنا لیا۔ آج کل یہ سبز و سرخ ٹائلز، جو ایک صدی سے اوپر کا زمانہ دیکھ چکی ہیں، کتابوں کی الماری کے آس پاس مربع شکل میں محفوظ ہیں۔

پروفیسر شائستہ سونو سراج الدین کا کہنا ہے، یہ ان کے لیے اعزاز کی بات ہے، جن سِلوں کو دیکھتے ہوئے ان کے والدین اور نانا کی عمر گزری، وہ ان کے گھر کے پر سکون کمرے میں بہ حفاظت موجود ہیں۔

